نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد پر فائرنگ، حملہ آور کی تلاش جاری

15 مارچ, 2019

نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے دوران وہاں کے دورے پر جانے والی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اس حملے میں بال بال بچ گئے ہیں، تاہم حملہ آور  کی تلاش جاری ہے پولیس اور امدادی عملہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لے جا رہے ہیں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی تلاش جار

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ جائے وقوعہ کہ قریبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ اردگرد کے تمام سکول اور ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ جمعے کے نماز کے دوران کیا گیا اور وہ حملہ آور سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

موہن ابراہیم حملے کے دوران اسی علاقے میں تھے۔ انھوں نے نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو بتایا ’پہلے ہمیں لگا کہ کوئی بجلی کا جھٹکا ہے، لیکن پھر سب لوگ بھاگنے لگے۔’

‘میرے دوست ابھی تک اندر ہیں۔’

میں اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ابھی بھی کئی لوگوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ میں ان کے لیے بہت فکر مند ہوں۔’

مسجد میں کیا ہوا؟

ابھی تک واقعے کی تفصیلات واضح نہیں ہیں اور زیادہ تر معلومات مقامی میڈیا سے موصول ہو رہی ہیں، جو واقعے کے عینی شاہدین سے بات کر رہے ہیں۔

کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے مسجد کی عمارت کے باہر زخمی لوگوں کو زمین پر لیٹا دیکھا ہے، لیکن پولیس یا مقامی انتظامیہ نے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی۔

اطلاعات آ رہی ہیں کہ لِن وڈ کے مضافاتی علاقوں میں موجود دوسری مساجد کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔

حکام کا جوابی عمل

نیوزی لینڈ کی خبررساں ویب سائیٹ کے مطابق ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کینٹربری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے نمٹنے کا منصوبہ عمل میں لا چکا ہے۔

زخمیوں کے لیے ایمرجنسی روم میں جگہ بنانا اس منصوبے میں شامل ہے۔ تاہم ترجمان نے زخمیوں کی ممکنہ تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

پولیس نے نزدیکی کیتھیڈرل سکوائر بھی خالی کروا لیا ہے، جہاں پر ہزاروں بچے موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ریلی نکال رہے تھے۔

پولیس کمشنر مائیک بُش کا کہنا ہے ’اس وقت کرائسٹ چرچ میں ایک حملہ آور موجود ہے جس کی وجہ سے حالات سنگین ہیں اور ان میں تبدیلی آ رہی ہے۔‘

’پولیس حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جوابی کارروائی کر رہی ہے، لیکن خدشات اب بھی بہت زیادہ ہے۔‘

پولیس نے ہدایات دی ہیں کہ کرائسٹ چرچ کے رہائشی تا حکم ثانی اپنے اپنے گھروں کے اندر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اسی طرح شہر کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

حملے کی زد میں کون کون آیا؟

عینی شاہدین نے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

Tamim Iqbal Khan

@TamimOfficial28

Entire team got saved from active shooters!!! Frightening experience and please keep us in your prayers #christchurchMosqueAttack

ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ’ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے ہیں جہاں پر حملہ آور موجود ہیں۔‘

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا ’وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔‘

 

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter