کورونا تو کہیں دکھائی نہیں دیا / ایک پرائمری ٹیچر کی دردناک روداد

17 اپریل, 2020

ہم اساتذہ کی ڈیوٹی لگائی گئی*
*زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہر دروازے پر جاکر کورونا سے متعلق بیداری تحقیق وتلقین*
*ایک گھر سے کھانسی کی خفیف آواز آئی*
*تشویش ہوئی*
*احوال دریافت کیا*
*جواب ملا*
*تین دنوں کا فاقہ ہے بھوک کی آگ بجھانے کے لئے دو گھونٹ پانی کے لئے ٹھسکہ لگ گیا ساب کرونا کیا مالوم ساب بھوک کا علاج کروا دو*

*سروے سے بات سمجھ آئی*
*ہر تیسرے گھر میں فاقہ کشی ہے*
*بازار کھلے ہیں لیکن جیب میں پیسہ نہیں ہے*
*میری جیب کی کیا اوقات تھی چار گھروں میں ہی دم توڑ گئی*
*رپورٹ کیا دوں ؟*
*وبا کی لپیٹ میں تو پوری دنیا تھی*
*لیکن وبا کا نام کیا دوں؟*
*لوگ اسے کورونا کہتے ہیں لیکن مجھے تو کہیں دکھائی نہیں دیا لوگ اپنے طور سے صاف صفائی کا اہتمام کر رہے ہیں ہر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہیں لیکن جو نئی وبا پھیلی

ہے "بھوک” نام کی’ اس کا علاج ہے کسی کے پاس ؟*
نامعلوم

نوٹ: مہاراشٹر کے علمی وصنعتی شہر مالیگاؤں کی صورتحال

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter