ڈاکٹر قمرالہدی انصاری جوار رحمت میں

مولانا شميم احمد ندوي

3 مئی, 2020

جمیعت و جماعت کے ایک بے لوث خادم، مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک، خوش اخلاق ومہمان نواز، جمیعت اہل حدیث نیپال کی ترقی کی فکر میں سر گرداں اور جماعت کے لئے ہمہ تن خدمت کے جذبہ سے سر شار ڈاکٹر قمر الہدی انصاری اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی یادوں کی خوشبو ہمارے سینوں میں باقی رہے گی، انھوں نے ایک طویل علالت سے نبرد آزما رہنے اور مختصر عرصہ تک صاحب فراش رہنے کے بعد آج شب ساڑھے بارہ بجے داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین،
ڈاکٹر صاحب نیپال کے معروف سرحدی شہربیرگنج سے متصل ایک مشہور اہل حدیث بستی بہوری کے رہنے والے تھے، یہ بستی الحمدللہ خطہ میں دیو بندیت، بریلویت اورتحریکیت کے سمندر میں ایک اہل حدیث جزیرہ کی طرح ہے، مختصر سی آبادی والی اس بستی کے تقریباً سبھی افراد موحد، اور کتاب وسنت کے پابند اہل حدیث ہیں، اور یہ خطہ میں اہل حدیثوں کی قدیم آبادی ہے
ڈاکٹر صاحب جمیعت و جماعت کی تعمیر وترقی سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، اور اس کے بنیادی ممبروں میں سے تھے، جمیعت کے ساتھ ان کی وابستگی کو دیکھتے ہوئے ان کو ہمیشہ جمیعت کی مجلس عاملہ کا ممبر نامزد کیا جاتا رہا اوریہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ چند لوگوں میں سے ایک تھے وہ پابندی کے ساتھ ہمیشہ جمیعت کی میٹنگوں میں شریک ہوتے تھے اور اپنے مفید مشوروں سے نوازتے تھے، جمیعت کی میٹنگیں ملک کے شرق وغرب یا دارالحکومت کھٹمنڈو میں کہیں بھی ہو وہ اپنی گوناگوں مصروفیات کو ترک کے ان میں شرکت کے لئے ضرور پہونچتے تھے،
وہ ایک خوش اخلاق، مہمان نوازاورایک اچھے انسان تھے، ان کے دل میں انسانیت کا درد تھا،
میری ان سے پہلی ملاقات سرہا رمول میں جمیعت کے ایک انتخابی اجلاس میں ہوئ، اس سے قبل میرا ان سے کوئی تعارف نہیں تھا، اسی اجلاس میں خطیب الاسلام علامہ عبد الرؤوف رحمانی جھنڈا گری رحمہ اللہ نے جو جمیعت کے مؤسس اور اس وقت تک امیر تھے اپنی پیراں سالی، صحت کی کمزوری اور نقل وحرکت سے معذوری کی وجہ سے مزید اس بوجھ کو اٹھانے سے معذرت کردی تھی جس کے بعد شوری نے اتفاق رائے سے مجھ بے بضاعت کو امیر جمیعت منتخب کیا، مولانا عطاء الرحمن مدنی ناظم اور مولانا عبد الخالق مدنی نے نائب امیر کی ذمہ داریاں قبول کیں، جمیعت کی نئ باڈی نے اپنا کام شروع کیا، جس کے پہلے مرحلہ میں ملک گیر دوروں کا پروگرام مرتب ہوا، اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب برابر ہمارے رابطہ میں رہے، میں نے مشرقی نیپال کے دورے سے ابتدا کی اور ناظم جمیعت مولانا عطاء الرحمن مدنی کی دعوت پر اپنے دورے کی شروعات ان کے آبائی وطن سرہا سے کی، پھر مشرق میں سبتری، سنسری وغیرہ کا دورہ ہوا اور اہل حدیث مدارس کے حالات کی ایک رپورٹ مرتب کی گئ پھر جنکپور، روتہٹ وغیرہ ہوتے ہوئے ہمارا یہ مختصر سا قافلہ بہوری پہونچا جہاں سے ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بڑے ہی خلوص کے ساتھ دعوت دے رکھی تھی،انھوں نے ہماری پرتکلف ضیافت کی اور ہمارے قیام وطعام کا انتظام کیا، اس علاقے کے مدارس جو رنگ پور کلیا وغیرہ میں ہیں ان کے حالات معلوم کرنے کے دوران ہمارا قیام ڈاکٹر صاحب کے گھر رہا، انھوں نے ہماری میزبانی کا فریضہ بڑے اعلی پیمانے پر انجام دیا اور علاقہ میں جمیعت و جماعت کی سرگرمیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، اس سے ہمیں ان کی جماعتی وابستگی کی گہرائی کا احساس ہوا،
اس پہلی تفصیلی ملاقات نے میرے دل پر ان کے اخلاق اور مہمان نوازی نے انمٹ نقوش مرتب کئے،
اس کے بعد دو بار اور ان کے دولت خانہ واقع بہوری جانے کا اتفاق ہوا، ہر بار اسی تپاک سے ملے اور ہماری میزبانی کا فریضہ انجام دیا،
اس کے بعد بھی وہ ہر ملاقات پر مجھے بہوری آنے کی دعوت دیتے رہے، ایک بار انھوں نے اپنے یہاں ایک دینی اجلاس میری صدارت میں رکھا لیکن اسی دوران ماؤنوازں کی ہڑتال کی وجہ سے میرا جانا ممکن نہ ہوا جس کا انہیں عرصہ تک ملال رہا بلکہ وہ مجھ سے نالاں رہے لیکن پھر میں نے کھٹمنڈو کی ایک ملاقات میں اپنی مجبوریاں بتاکر انہیں راضی کرلیا،
اس طرح گزرتے وقت کے ساتھ میرے ان کے ساتھ روابط مضبوط ہوتے گئے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مجھ سے ملنےکے لئے کئ بار جھنڈا نگر اور ایک بار میرے غریب خانہ پر لکھنؤ بھی تشریف لائے، جہاں انہیں اپنے کسی مسئلہ میں مشورہ کرنا تھا جس میں انھیں میرا تعاون بھی درکار تھا بہر حال میں نے بھی ان کی آمد پر اظہار مسرت کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کا فریضہ انجام دیا اور ان کے مسئلہ کو حل کرنے میں اپنا تعاون دیا جو الحمدللہ آگے چل کر حل ہوگیا، اس سلسلے میں وہ میری حقیر سی کوششوں کے ہمیشہ معترف ومداح رہے،
ڈاکٹر صاحب نے جمیعت میں اپنی جگہ کو گزرتے وقت کے ساتھ مزید مضبوط کیا اور اپنی اہمیت کا احساس دلایا یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ ہی عرصہ بعد بلا اختلاف جمیعت کے آمین الصندوق (کوشا ادھیکچھ) نامزد ہوئے جو
تین میقات تک اس ذمہ دارانہ منصب پر فائز رہے ، پھر آخر میں صحت کی خرابی اور اپنی کاروباری مصروفیات سے زیادہ جمیعت میں اپنے مسلسل نظر انداز کئے جانے اور جمیعت کی بے ضابطگیوں سے دلبرداشتہ ہوکر اس سے علحدہ ہوگئے یا جمیعت کے ذمہ داران نے ہی انھیں اپنی راہ کا روڑا سمجھ کر ان سے پیچھا چھڑا لیا،
امین الصندوق رہتے ہوئے انھیں جمیعت کے آمد وصرف اور اس کے حساب وکتاب سے بالکل بے خبر رکھا گیا اور رسمی طور پر بھی ان سے کسی بجٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، اور یہ صرف ان کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ جمیعت کے موجودہ امین الصندوق مولانا عبد الصبور ندوی جمیعت کے حسابات سے شاید ان سے بھی زیادہ بے خبر ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو قصداً جمیعت میں بے وقعت اور عضو معطل بنا دیا گیا، جمیعت کے موجودہ سیاہ وسفید کے مالک ذمہ داران کی ایک غیر ذمہ دارانہ سوچ یہ ہے کہ جو جمیعت کے لئے چندہ کرکے لاتا ہے اسے من مانے ڈھنگ سے اس رقم کو صرف کرنے یا اس میں تصرف کرنے کا حق بھی حاصل ہے کسی کو سوال کرنے کا حق نہیں، یہ حق جب امین الصندوق کا نہیں سمجھا گیا تو اور کسے حاصل ہوگا بہرحال ڈاکٹر صاحب کے
نظر انداز کئے جانے کی انتہا تو اس وقت ہو گئ جب انھیں کی بستی بہوری میں نام نہاد "عالمی کانفرنس” کا انعقاد ہوا تو انہیں کوئ کلیدی ذمہ داری دینا تو دور کی بات ہے ان کو مشورہ کے لائق بھی نہیں سمجھا گیا، میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس کے پس پردہ اسباب کیا تھے لیکن حقیقت یہی تھی کہ وہ کانفرنس کی پوری تیاریوں کے درمیان اور پھر اس کے انعقاد کے دوران اس سے بالکل الگ رہنے پر مجبور ہوئے اور پورے منظر نامہ سے غائب رہے، اور صرف وہی ایک مظلوم نہیں تھے جمیعت و جماعت جو چند ہاتھوں میں کھلونا ہے اس کے تیر نیم کش کے شکار بہت سے علماء وفضلاء ہیں جن کے دل میں جماعت کا درد اور اس کی تعمیر وترقی کی خواہش ہے لیکن جمیعت میں ناقدری کے شکار ہیں ایسے لوگوں کو موجودہ ذمہ داران ہمیشہ اپنا حریف سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ کانفرنس سے بے تعلقی کے اظہار پر مجبور ہوئے
پھر کانفرنس کا جو حشرہوا وہ سب کے سامنے ہے جس نے اس کانفرنس کو نہ صرف یہ کہ قصہ پارینہ بنادیا بلکہ دنیا بھر میں جمیعت کا بھی خوب تماشہ بنایا،
بہرحال ڈاکٹر صاحب مرحوم کا حال لکھتے لکھتے یہ چند تلخ حقائق بلا ارادہ نوک قلم پر آگئے جس کے لیے احباب سے معذرت خواہ ہوں
اللہ سے دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو غریق رحمت کرے، انھیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کی نیکیوں کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ان کی خطاؤں ولغزشوں سے درگزر فرمائے کہ ہر انسان خطا ونسیان کا پتلہ ہے
اور اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زمانہ کے دستبرد سے ان کی حفاظت فرمائے آمین یا ارحم الراحمين

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter