کرشنانگر/ كيئر خبر
لچھمی نگر کرشنانگر نیپال میں بیکل صاحب کی بڑی بیٹی مرزا تبارک بیگ( کرشنانگر کا مشہورنام) کے بڑےبیٹے سے منسوب ھیں نے اپنے والد محترم پدم شری بیکل اتساھی كى ياد میں ایک ادبی و شعری نشست اپنے دولت کدے لچھمی نگر میں منعقد کی جس کی صدارت نیپال کے مشہور ومعروف شاعر زاھدآزاد جھنڈانگری نے کی اور نظامت ھندی چینل انڈو نیپال کے صحافی۔ صغیر خاکسار نے کی
صدارتی خطاب میں زاھدآزاد جھنڈانگری صدر انجمن ارتقاء اردو ادب نے کہا ۔
آج ھم پدم شری بیکل اتساھی کے اعزاز میں منعقد شعری نشست میں شرکت کر رھے ھیں ۔یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پدم شری بیکل اتساھی ہندوستان کے ایک چھوٹے سے شہر بلرامپور میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم نے آپکا نام محمد شفیع رکھا ۔کسی کو کیا پتا تھا یہ کل اپنی اس گاؤں کی سوندھی مٹی کی خوشبو کو پورے ملک میں تعارف کراے گا بعد میں لوگوں نے محسوس کیا کہ یقینا
ھمارے گاؤں کا بیکل کبیر جیسا تھا
آپ کی شاعری میں نذیر وکبیر کے امتجاز کو محسوس کیا گیا
بیکل صاحب ایک فقیر منش شاعر تھے راجیہ سبھا جیسے بڑے منصب پر رھتے ھوے کبھی بھی اسکا غلط استعمال نھی کیا آجکل اس عہدے تک پہنچنا کتنا مشکل ھے اسکا اندازہ ھم آپ نھی کر سکتے ان کے انتقال کے بعد کئی سربستہ راز کھلے ۔کئی لوگوں نے آپ پر۔ پی ایچ ڈی بھی کی جو ایک اعزاز سے کم نھی
اس شعری نشست میں تمام شرکاء نے بیکل اتساھی ھی کے اشعار بڈھے
آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی عارفہ اتساھی نے والد محترم کے اشعار کو پیش کیا
ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں
ادھر بھی اھل جنوں سربدلتے رھتے ھیں
بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانی
مگر جو دوست ھیں وہ پیکر بدلتے رہتے ہیں
یہ دبدبہ یہ حکومت ۔یہ نشئہ دولت
کرائے دار ھیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں۔ عارفہ اتساھی
پڑھیں قمیص۔نچی آستین۔کچھ تو ھے
غریب ایسی دسا میں۔حسین کچھ تو ھے
تمہارے لباس قیمتی رکھ کر شہر ننگا ھے
ھمارے گاؤں میں موٹا مھین کچھ تو ھے۔ ( صغیر خاکسار)
صدر مشاعرہ زاھدآزاد جھنڈانگری نے بھی بیکل صاحب کے اشعار پیش کئے
تمہارے تنز کا پتھر شگفتہ پھول تو ھے
میں ھوں غریب میرا بھی کوئی اصول تو ھے
یہ سچ ھے کوئی بھی پونجی نھی ھے میرے پاس
میرے بدن پہ زمین وطن کی دھول تو ھے۔
کوىی مسجد گردوارے نہ سوالے ھوں گے
صرف تو ھوگا۔ ترے چاہنے والے ھوں گے
بیج دے اپنی زباں۔اپنی انا۔ اپنا ضمیر
پھر ترے ہاتھ میں سونے کے نوالے ھوں گے
آپ کی راۓ