جرھیا (دهنوشا) میں دعوتی ورکشاپ بحسن وخوبی اختتام پذیر
دهنوشا/ فيصل عزيز
جرھیا کی قدیم مسجد میں منعقد نصف روزہ دعوتی ورکشاپ بحسن خوبی اختتام پذیر ہوا۔ جرھیا میں موجود طلبہ، فارغین اور اہل علم کی کثیر تعداد شریک رہی۔ قرب وجوار سے بھی کچھ اہل علم نے آکر حصہ لیا خصوصاً ٹھیلہ سے مقصد حیات سے جڑے بعض مشائخ نہ صرف پروگرام کی زینت بنے بلکہ مشارکین کے لئے قلم کاپی کا تحفہ بھی اپنے ساتھ لائے تھے جس کے لئے ہم سب ان کے ممنون ہیں اور مقصد حیات کی ترقی اور ان کے افراد کے اخلاص کے لئے دعا گو ہیں۔ پروگرام کا خیال آنا فانا ہوا تھا ، اسلئے کچھ خامیاں رہ گئیں۔ اگر پروگرام کے انعقاد سے پہلے کچھ ایام ہوتے تو دعوتی فیلڈ میں مستقل کام کرنے والے مزید ٹرینر کی خدمات لی جاتیں، جس سے محاضرے میں بھی زیادہ سے زیادہ تنوع ہوتا اور فیلڈ ورک بھی زیادہ سے زیادہ ہوپاتا۔ تاہم ورکشاپ نے مشارکین کے دلوں میں دعوت کے تئیں جوش وجذبہ ضرور پیدا کیا ہوگا۔
ڈاکٹر عبداللہ جولم عمری حفظہ اللہ نے غیر مسلموں میں دعوت کی اہمیت،ترک دعوت کے نقصانات ، دعوت کا طریقہ کار اور اس تعلق سے پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں کا علمی و تشفی بخش جواب دیا۔چونکہ خطاب کافی طویل ہوگیا تھا اور بہت سے موضوعات ایک ساتھ بیان کئے گئے تھے ، اس لئے راقم الحروف نے بروقت مناسب سمجھا کہ سامعین کے سامنے دعوت کے طریقہ کار پر خلاصہ کے طور پر ہلکی سی جھلک اور موٹی موٹی باتیں پیش کردی جائیں جو ذہن میں آسانی سے بیٹھ جائیں اور عملی مشق میں کام آئیں۔ شیخ عبد الصمد فلاحی صاحب نے بھی اپنے دعوتی تجربات پیش کئے جو کافی دلچسپ اور مفید تھے۔انہوں نے داعی کے اوصاف پر بھی روشنی ڈالی۔ عصر کی آذان کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ پروگرام کے آخر میں مولانا حبیب الرحمن متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے تمام مشارکین کو ہدیہ تشکر پیش کیا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔پروگرام کی تنسیق میں ان کا بہت بڑا کردار رہا۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ آمین
عصر نماز بعد مشارکین کو دو گروہ میں تقسیم کیا گیا اور فیلڈ ورک کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اللہ ہم سب کے اندر دعوتی جذبہ بیدار کرے۔ آمین
فیصل عزیز مدنی ،جرھیا
ایڈیٹر ہفت روزہ الہدی اردو نیپال
آپ کی راۓ