غزہ/ ايجنسى
غزہ اور اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپوں کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عملی طور پر کسی اسرائیلی فوجی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ ملٹری پراسیکیوٹرز کو منتقل کیے گئے 143 میں سے 95 کیسز بغیر کارروائی کے ہی بند کردیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک کیس میں اسرائیلی فوجی کو اختیارات کے غلط استعمال کا مجرم قرار دیا گیا جبکہ 18 ماہ کے مظاہروں میں اسرائیلی فائرنگ میں 215 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
غزہ انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 سال سے کم عمر 47 افراد اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے 13 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے اور 18ہزار براہ راست فائرنگ کی زد میں آئے۔
یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت غزہ میں 2014 کے بعد سے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کررہی ہے۔
آپ کی راۓ