کٹھمنڈو / کئیر خبر
آج پورے ملک نیپال میں عید قربان نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی لاکھوں فرزندان توحید و خواتین امت نے قربانیاں کیں اور ملک میں امن و سلامتی اور بھائی چارہ کے لئے دعاییں مانگیں وہیں ملک کے تمام عید گاہوں میں مظلوم فلسطینی بھائیوں کے حق میں خصوصی دعایں کی گئیں –
کٹھمنڈو کے ٹوڈی کھیل فوجی گراؤنڈ میں آج سیکڑوں فرزندان توحید و خواتین امت نے سنّت کی متابعت میں مولانا عبد الصبور ندوی کی زیر امامت دو گانہ عیدالاضحی ادا کی نماز کے بعد مولانا نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہویے کہا : کہ ہماری عیدیں اللہ کے ذکر اور تکبیر پر مبنی ہوتی ہیں آج ہم اپنے جانوروں کو قربان کرتے ہویے یہ عزم کرینگے کہ اسلام کی سربلندی کی خاطر مسلمان کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریگا؛ انہوں نے کہا کہ عید الفطر اگر نزول قرآن کی یادگار ہے تو عید الاضحی ایثار و قربانی اور مجاہدہ نفس کی پکار ہے- یہ قربانی حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی سنّت ہے اور ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جائے گی-
انہوں نے کہا کہ آج عید قرباں کے موقع پر ہم سب عہد کریں کہ ہم جانوروں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اپنی انا کو قربان کردینگے –
مولانا نے نیپالی فوج و انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے عید الاضحی کے لئے گراونڈ فراہم کیا-
مولانا ندوی نے قربانی کی شرایط کا ذکر کیا کہ ہمارے جانور ہر قسم کے عیب سے پاک ہونے چاہییں بکروں کی عمر ایک سال اور بڑے جانوروں کی عمر دو سال سے اوپر ہونی چاہیے؛ بھیڑ کی عمر 6 ماہ سے زاید ہو – اندھا؛ بیمار؛ لنگڑا اور لاغر جانوروں کی قربانی سے احتراز کرنا چاہئے –
آپ نے حدیث کا حوالہ دیتے ہویے کہا قربانی کا وقت آج خطبہ کے بعد سے 13 ذی الحجہ کی شام تک کل چار دن ہیں ان تاریخوں میں رات ہو یا دن عورت ہو یا مرد سب قربانی کر سکتے ہیں انہوں نے اپیل کی کہ قربانی کرتے وقت مفلوک الحال لوگوں کا خیال ضرور رکھیں –
اس کے بعد ملک و ملت و عالم اسلام کی سلامتی و خوشحالی نیز بھائی چارہ کے لئے دعائیں مانگی گئیں
اس موقع پر دوگانہ سے قبل پروفیسر رمضان علی میاں نے مختلف مذاہب و اقوام میں قربانی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور ثابت کیا کہ دوسرے مذاہب میں جانوروں کے ساتھ سلوک تفریح طبع پر مبنی ہے جبکہ اسلام میں جانوروں کے احترام کے ساتھ انکی قربانی اور ان کا صحیح استعمال بتایا ہے –
اس موقع پر سابق وزیر اقبال احمد شاہ؛ ڈاکٹر عبد المبین ثاقب؛ مولانا محمد عقیل سلفی؛ جناب محمد احمد پپو خان؛ مولانا عبد المجید بھکراھوی ؛ نور محمد میاں؛ ؛ محمّد اقبال سلفی؛ قمر الکاتب؛ مولانا امان اللہ منصور مدنی ؛ مولانا صغیر سراجی ؛ فوزان الفاطمی؛ الحاج عبد العزیز دمولی؛ عبد الجبار منا؛ اختر حسین کے علاوہ دیگر سماجی و دینی شخصیات موجود تھیں –
آپ کی راۓ