مورخہ 22 فروری مملکتِ سعودی عرب میں ایک اہم دن مانا جاتا ہے، جسے "یومِ تاسیس” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن امام محمد بن سعود رحمہ اللہ کی قیادت میں 1727عیسوی میں سعودی ریاستِ اول کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے شاہی فرمان کے تحت سرکاری تعطیل کے طور پر مقرر کیا گیا، تاکہ مملکت کی تاریخی گہرائی اور مضبوط جڑوں کو اجاگر کیا جا سکے۔
چنانچہ گزشتہ سال پہلی بار یہ دن منایا گیا تھا، اور شاہی فرمان کے مطابق اسے ہر سال سرکاری تعطیل قرار دیا گیا۔
سعودی عرب میں اس دن مختلف ثقافتی اور روایتی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جو ریاست کی تاریخ اور قومی تشخص کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان تقریبات میں شامل ہیں:
تاریخی نمائشیں جو تین صدیوں پر محیط سعودی عرب کے ورثے کو نمایاں کرتی ہیں۔
عسکری پریڈز جو سعودی عرب کی مسلح افواج کی طاقت اور ترقی کو ظاہر کرتی ہیں۔
ثقافتی و فنی مظاہرے جو مملکت کے بھرپور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔
سیمینارز اور کانفرنسز جو سعودی ریاست کی ترقی اور تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں۔
آتش بازی اور لائٹ شوز جو مختلف سعودی شہروں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔
یومِ تاسیس (بنیاد کا دن ) سعودی شہریوں میں قومی شناخت اور حب الوطنی (وطن سے محبت) کے احساسات و جذبات کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ دن سعودی عرب کی ترقی میں اجداد کی قربانیوں اور محنتوں کو یاد رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز، یہ دن مملکت سعودی عرب کی عظیم کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے جو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رحمہم اللہ کی قیادت میں حاصل کی گئی ہیں۔
اس اہم دن کی مناسبت سے دنیا کے کئی سربراہانِ مملکت سعودی عرب کی قیادت کو مبارکباد کے پیغامات ورسائل بھیجتے ہیں، اور سعودی عرب کی علاقائی و عالمی کامیابیوں کی ستائش کرتے ہیں۔ مملکت کے شہری اور مقیم غیر ملکی بھی اس موقع پر مختلف تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
یومِ تاسیس صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ سعودی عوام کے اتحاد، ماضی پر فخر، حال پر اطمینان اور روشن مستقبل کی امید کا دن ہے۔ یہ دن قومی اقدار کو مستحکم کرنے اور سعودی عرب کی مزید ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کرنے کا مظہر ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ یومِ تاسیس سعودی عوام کے لیے خوشحالی اور ترقی کا باعث بنے، اور یہ توحیدی ریاست ہر طرح کی برائیوں، بدعنوانی اور لالچ سے محفوظ رہے، نیز یہ ملک مزید ترقی اور استحکام کی جانب گامزن رہے۔
آپ کی راۓ