شاہ رخ خان اور ہندستانی مسلمان

ڈاکٹر عبد اللہ فیصل

21 اکتوبر, 2021

بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان جنہیں کنگ خان یا بالی ووڈ کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے. ان کے بیٹے آرین خان کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ تمام ہندستانی مسلمانوں کے لئیے ایک لمحہء فکریہ ہے ـ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے نام نہاد ترقی پسند لوگ موجود ہیں جو غیر مسلموں کی خوشنودی حاصل کر نے کے لیے اپنے ایمان وعقیدے تک سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں فسق وفجور جانے دجئیے کفر وشرک تک کرڈالتے ہیں ،اعلانیہ ہندوانہ رسوم بھی ادا کرتے ہیں
اس کے بعد بھی انہیں بخشا نہیں جاتا ہے.
آرین خان کو صرف اس لئیے پھنسایا گیا ہے کی وہ ایک ایسے شخص کا بیٹا ہے کی جس کے نا م کے ساتھ خان لگا ہوا ہے باقی کوئ چیز مسلمانوں جیسی نہیں ہے ـ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے کی آرین خان کے قبضے سے منشیات بر آمد ہوئ ہے ـ منشیات کے قانون میں کئ زمرے ہیں سب سے چھوٹا جرم منشیات کا استعمال ہے ـ اس سے بڑا جرم منشیات کا خریدنا ہے اور اسے بھی بڑا جرم منشیات کو فروخت کرنا ہے ـ قانون انہیں لوگوں کے ارد گرد گھومتا ہے ـ رہے منشیات کے بڑے اسمگلر ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت دنیا کی بڑی اورطاقت ور حکو متیں نہیں کرسکتیں کیوں کی یہی وہی لوگ ہیں جو حکومتوں کو بناتے بگاڑتے اور اپنے اشارے پر نچاتے ہیں ـ
شاہ رخ خان کے بیٹے کےتعلق سے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کی وہ معمولی سے منافع کے لئیے ایک گرام دو گرام پانچ گرام ڈرگس بیچے گا کیوں کی اس کی حیثیت اس سے بہت زیادہ بلند ہے البتہ منشیات کے استمال کا الزام لگایا جا سکتا ہے جو ایک ہلکا جرم ہے اور اسکی سزا بھی بہت زیادہ نہیں ہے اور جہاں تک منشیات کے استعمال کا تعلق ہے آپ کو گلی کوچوں میں جان لیوا نشے کا استعمال کرنے والے سپلائ کرنے والے سب مل جائیں گے اور ان کا کوئ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ـ اسکول کالجوں کے اطراف میں منشیات فروشوں کے نمائندے ٹہلا کرتے ہیں اور طلبہ وطالبات کو منشیات سپلائ کرتے ہیں. پولس نارکوٹک سیل(Narcotic Cell) یا این سی.بی کا کہیں دور دور تک پتہ نہیں ہوتا سب کو معلوم ہے اور پیسہ دیے کر سب کا منہ بند کرادیا جاتا یے. کبھی کبھی دکھاوے کے لئیے کچھ کاروائ بھی کردی جاتی ہے لیکن ویسی سرگرمی نہیں دکھائ جاتی جو آرین خان کے خلاف دکھائ جاتی ہے.

ہم نہ شاہ رخ خان کی حمایت کر رہے ہیں نہ آرین کی نہ منشیات کے استعمال کی نشہ ایک بہت بڑی لعنت ہے جس سے پورا معاشرہ تباہ وبرباد ہو رہا ہے جہاں تک فلمی پارٹیوں کا سوال ہے یہاں منشیات کاا ستعمال عام ہے کبھی اگر ہنگامہ ہوتا ہےتو صرف اس لئیے کی اس کے پیچھے کوئ سیاسی ایجنڈہ ہوتا ہے ـ
شاہ رخ خان ،سلمان خان عامر خان ،نصیرالدین شاہ، جاوید اختر غرضیکہ ایک لمبی فہرست مسلمانوں کی ہے جنہوں نے فلمی دنیا میں نام عزت شہرت دولت سب کچھ کمایا ہے. لیکن اپنے عقیدے و ایمان کو دوسروں کی خوشنودی کے کے لئیے داؤ پر لگا دیا ہے ـ ان میں سے کئ لوگوں نے غیر مسلموں سے شادیاں کر رکھی ہیں جو ظاہر بات ہے کی حرام کاری ہے. شاہ رخ خان اورعامر خان اسی قبیل کے لوگ ہیں. غیر مسلموں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئیے ہی اپنے گھروں میں پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں. تلک بھی لگا لیتے ہیں ہولی بھی کھیلتے ہیں جو ظاہر یے کی یہ سب حرکتیں نہ صرف خلاف شرع ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو کفر وشرک کا حکم لگ سکتا ہے ـ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی غیر مسلم ان کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں ـ جب بھی موقع ملتا ہے تو ان کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے ـ ان کو ذریعہ بنا کر عام مسلمانوں پر بھی حملہ ہوتا ہے ـ اور جب ان پر حملہ ہوتا ہے یہ نام نہاد رواداری ان کا بچاؤ نہیں کر پاتی ہے خواہ وہ نصیر الدین شاہ ہوں یا جاوید اختر یا سلمان شاہ رخ یا عامر خان خان سب فرقہ پرستوں کےعتاب کا نشانہ بنتے ہیں اور متعدد بار بنے بھی ہیں . نام نہاد قومی یکجہتی ان کے کام نہیں آتی ہے. چاہے گھروں میں مندر بنا لیں اور سب کچھ ہندؤں کے مطابق رسوم اداکریں لیکن ان کے عتاب سے نہیں بچ سکتے ـ
جبک یہ لوگ اپنے گھروں میں بھی پوجا پاٹ کرتے ہیں اور بڑے جوش وخروش سے مندروں میں بھی جاتے ہیں اور پوجا پاٹ کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں ـ تلک لگاتےہیں پرساد کھاتے ہیں ـ لیکن کبھی ان کو اس بات کی توفیق نہیں ہوئ کی وہ عید وبقرعید کی تقریبات کا اسلامی تہذہیب وثقافت کے دائرے میں رہکر انعقاد کریں کبھی ان کو جمعہ وعیدین کی نماز میں بھی نہیں دیکھاجاتا. وہ کیا کرتے ہیں ہمیں اس سے کوئ غرض نہیں ایمان عقیدہ ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کی ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں لیکن اپنی حرکتوں سے یہ اسلام اور شعائر اسلام کا مزاق اڑاتے ہیں اسلامی تہذہیب وشناخت سے کٹ جاتے ہیں لیکن جن کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئیے یہ لوگ اپنے ایمان عقیدےتک سے دستبردار ہوجاتے ہیں وہ لوگ موقع پڑنے پر ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جو دیگر مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں.
جہاں ایک طرف مسلمان اداکار مسجد میں جانے سے شرماتے ہیں وہیں دوسری طرف امیتابھ بچن ودیگر فلمی اداکار دھوم دھام سے اعلان کے ساتھ مندروں میں جاتے ہیں اپنا مذہبی حلیہ استعمال کرتے ہیں اسکا کبھی لحاظ نہیں کرتے کہ مسلمان ان سے ناراض ہو جائیں گے.
نام نہاد اور خود ساختہ رواداری کی لاش کوڈھونے کے لئیے صرف مسلمان اداکار اپنا کندھا کیوں پیش کرتے ہیں.
اگر یہ مسلم اداکار مندروں میں جاتے ہیں اپنے گھروں میں پوجا پاٹ کرتے ہیں ـ گنپتی بیٹھاتے ہیں ـ تو ہندو ادا کار مسجدوں میں کیوں نہیں آتے.

شاہ رخ خان کی مثال ان تمام مسلمانوں کے لئیے نمونہء عبرت ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اپنے فسق وفجور اور مشرکانہ اعمال کے نتیجے میں وہ دو سروں کی خوشنودی حاصل کر کے بچ جائیں گے ـ
اس وقت بالی ووڈ میں تینوں خان حضرات اور دیگر مسلم شخصیات کے خلاف گہری سازش چل رہی ہے ان کو منظر عام سے ہٹانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے. اس کی بنیاد بہت پہلے رکھی جاچکی ہے. سن دوہزار انیس(2019) میں نریندر مودی نے چوٹی کے فلمی شخصیات کو دہلی بلا کر ان کے ساتھ تصویریں کھچنوائ تھی ان میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا. اب سوچئیے اسلام سے دوری ان کے کس کام آئ اگر شاہ رخ خان تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اسلامی تعلیمات کو تھوڑا سا بھی اپناتے اور اپنے بیٹے کو تھوڑا مذہبی تعلیم بھی دے دیتے تو شاید آج ان کو اس ذلت ورسوائ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا. اگر گھر میں ہی کسی عالم یا حافظ کو بلا کر قرآن واسلام کی کچھ بنیادی تعلیم سکھا دیتے تو ان کا بیٹا ان کے لئیے اس طرح ذلت ورسوائ کا ذریعہ نہیں بنتا ـ ابھی بھی وقت ہے یہ مسلم اداکار اپنے اندر تبدیلی لائیں.
سلمان شاہ رخ عامر خان کو وہ مسلمان سمجھتے ہیں. اگر یہ لوگ مشر کانہ رسوم کے ذریعہ وہ غیر مسلموں کی ہمدردی حاصل کر لیں گے تو جاوید اختر نصیر الدین شاہ اور تینوں خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور اپنی اصل سے انحراف کی غلطی نہ کریں ـ جس دنیا کے چکر میں وہ آخرت کا سودا کر رہے ہیں وہ دنیا بھی ان کے ہاتھ لگنے والی نہیں ہے.
کاش یہ لوگ عبرت حاصل کرتے ـ
مضمون نگار: ماہنامہ المصباح کے ایڈیٹر ہیں.
9892375177

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter